خیالات مجسم بن سکتے ہیں!

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ آپ سارا دن خود سے کیا باتیں کرتے ہیں؟ یہ وہ خاموش گفتگو ہے جو دراصل آپ کی تقدیر کے فیصلے کر رہی ہوتی ہے۔ ہمارا لاشعور ایک کورے کاغذ کی مانند ہے اور ہمارے "تکرار کرتے خیالات” اس قلم کی طرح ہیں جو اس پر مسلسل لکھ رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ انجانے میں اس قیمتی کاغذ پر مایوسی، ناکامی اور خوف کی داستانیں لکھ رہے ہیں۔ جب آپ روزانہ اٹھتے بیٹھتے یہ دہراتے ہیں کہ "میری تو قسمت ہی خراب ہے”، "مہنگائی نے مار دیا” یا "مجھ سے یہ کام نہیں ہوگا”، تو آپ کا لاشعور اسے محض ایک شکایت نہیں سمجھتا بلکہ اسے آپ کی طرف سے دیا گیا ایک حتمی "حکم” مان کر قبول کر لیتا ہے۔ پھر یہ طاقتور نظام آپ کی زندگی کے حالات، واقعات اور لوگوں کو اس طرح ترتیب دیتا ہے کہ آپ کی کہی ہوئی ہر منفی بات سچ ثابت ہو جائے۔

دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ لاشعور سچ اور جھوٹ، یا حقیقت اور مذاق میں فرق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ تو بس "تکرار” کی زبان سمجھتا ہے۔ اگر آپ شعوری طور پر، زبردستی خود کو یہ یقین دلانا شروع کر دیں کہ "میں پرسکون ہوں”، "دولت میری طرف کھچی چلی آ رہی ہے” اور "میں ہر مسئلے کا حل نکال سکتا ہوں”، تو آہستہ آہستہ یہ باتیں لاشعور کے کاغذ پر نقش ہو جاتی ہیں۔ جیسے ہی یہ تحریر پکی ہوتی ہے، آپ کا دماغ خود بخود ایسے راستے اور مواقع دکھانا شروع کر دیتا ہے جو پہلے نظروں سے اوجھل تھے۔

اپنی زندگی کی کہانی بدلنے کے لیے آپ کو باہر کی دنیا سے لڑنے یا حالات بدلنے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، بس اس قلم کا رُخ موڑنے کی ضرورت ہے جو آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ آج ہی سے اپنی اندرونی لغت بدل لیں۔ اپنے آپ کو بیچارہ، مظلوم یا کمزور کہنا چھوڑ دیں، کیونکہ جو کہانی آپ آج اپنے خیالات کی سیاہی سے لاشعور پر لکھیں گے، کل وہی حقیقت بن کر آپ کے سامنے کھڑی ہوگی۔ اب یہ فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ اپنی زندگی کو ایک المیہ (Tragedy) لکھتے ہیں یا ایک شاہکار (Masterpiece)۔

*-**-*