ہم سب کی زندگی کا ایک خفیہ اور بظاہر خوشگوار خواب یہی ہوتا ہے کہ کاش کوئی کام نہ کرنا پڑے، بس سکون ہو اور ہم فارغ بیٹھے رہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ جب یہ خواب حقیقت بنتا ہے، جب واقعی کرنے کو کچھ نہیں ہوتا، تو کیا ہم خوش ہوتے ہیں؟ حقیقت اس کے برعکس ہے،جب ہم مکمل طور پر فارغ ہوتے ہیں، تب ہم سب سے زیادہ بے چین، چڑچڑے اور منفی ہوتے ہیں۔

انسانی فطرت کا ایک عجیب اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہمارا ذہن خلا سے نفرت کرتا ہے۔ یہ قدرت کی بنائی ہوئی ایک ایسی پیچیدہ اور ہائی پاور مشین ہے جسے ایندھن کے طور پر مسلسل مسائل، گتھیاں اور چیلنجز درکار ہوتے ہیں۔ ارتقائی طور پر یہ زندہ رہنے اور مسائل حل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جب ہم اسے کوئی حقیقی مقصد، کوئی پروجیکٹ یا کوئی کام نہیں دیتے، تو یہ اپنی فطرت سے مجبور ہو کر اپنے ہی اندر مصنوعی مسائل تراشنا شروع کر دیتا ہے۔
ایک بے کار بیٹھا ہوا ذہن انسان کا دوست نہیں بلکہ ایک خطرناک دشمن بن جاتا ہے۔ جب اسے باہر لڑنے کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ملتا، تو یہ اندر لڑنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ ماضی کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو کرید کر ناسور بنا دیتا ہے، مستقبل کے ان دیکھے خوفناک خاکے بناتا ہے، لوگوں کے رویوں پر شک کرتا ہے اور بلاوجہ کی اداسی طاری کر دیتا ہے۔ جسے ہم اکثر ڈپریشن، اینزائٹی یا اوور تھنکنگ کہتے ہیں، وہ اکثر اسی بے روزگار ذہن کی کارستانی ہوتی ہے جو اپنی توانائی کو غلط سمت میں خرچ کر رہا ہوتا ہے۔
ایک عام غلط فہمی یہ بھی ہے کہ کام ذہن کو تھکا دیتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اور نیورو سائنسدان بتاتے ہیں کہ ذہن کام سے نہیں تھکتا، یہ بوریت، یکسانیت اور جذباتی تذبذب سے تھکتا ہے۔ آپ نے بارہا مشاہدہ کیا ہوگا کہ ایک سائنسدان، مصور یا لکھاری اٹھارہ گھنٹے اپنے کام میں مگن رہنے کے باوجود ذہنی طور پر تازہ دم اور پرجوش رہتا ہے، جبکہ سارا دن بستر پر لیٹ کر چھت گھورنے والا شخص شام کو تھکن سے چور ہوتا ہے۔ وجہ صاف ہے کہ کام ذہن کی خوراک ہے۔جب اسے خوراک ملتی رہتی ہے تو یہ توانا رہتا ہے، اور جب اسے بھوکا رکھا جاتا ہے تو یہ نڈھال ہو جاتا ہے۔
ذہن کی مثال بہتے ہوئے پانی جیسی ہے۔ جب پانی حرکت میں رہتا ہے، پتھروں سے ٹکراتا ہے، گرتا ہے اور اپنا راستہ بناتا ہے تو وہ شفاف اور پاکیزہ رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ ایک جگہ رکتا ہے اور ساکت ہوتا ہے، وہ جوہڑ بن جاتا ہے جس میں بدبو اور کیڑے مکوڑے جنم لیتے ہیں۔ فارغ ذہن بھی اسی جوہڑ کی مانند ہے جہاں وسوسوں اور منفی سوچوں کے جراثیم پرورش پاتے ہیں۔ حقیقی سکون ہاتھ پیر چھوڑ کر بیٹھ جانے میں نہیں، بلکہ کسی مقصد میں کھو جانے میں ہے۔ جسے نفسیات میں "فلو” (Flow) کی کیفیت کہتے ہیں، وہ اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان اپنے کسی پسندیدہ یا مشکل کام میں پوری طرح ڈوبا ہوا ہو۔
لہٰذا، اپنے ذہن پر رحم کریں اور اسے کبھی بے روزگار نہ ہونے دیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کوئی پہاڑ کھودیں، لیکن اسے کسی نہ کسی سرگرمی میں ضرور الجھائے رکھیں۔ چاہے وہ کوئی نئی زبان سیکھنا ہو، کوئی ہنر آزمانا ہو، یا محض کوئی پیچیدہ پہیلی حل کرنا ہو۔اپنے ذہن کو چیلنج دیتے رہیں۔ اسے مصروف رکھیں، کیونکہ ایک مصروف ذہن ہی دراصل ایک محفوظ اور پرسکون ذہن ہے۔ خود کام کریں یا نہ کریں، لیکن اپنے ذہن کو کام پر لگائے رکھیں، ورنہ یہ آپ کو اپنے ہی خیالات کے جال میں پھنسا کر مار دے گا۔
*-*-*






